ایک ملاقات
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaبرسوں کے بعد ملے بہت شکوئے گلے ھوئے
جنم جنم سے جیسے محبتوں کے سلسلے ھوئے
بگولوں کے پیچھے گویا خوشی کی تلاش میں
صحرا میں دوڑ دوڑ کر پاؤں تھے جلے ھوئے
اور لے کر چلی تھی یاد ان کے گھر مگر
سانسیں تھیں پنجہ کش اور لب تھے سلے ھوئے
انکی گلی میں دیکھا بہاروں کا بول بالا
کلیاں تھیں سجدہ ریز اور پھول تھے کھلے ھوئے
سورج بھی جانے کیسے کہاں سے طلوع ھوا
مسرور کیفیت سے ان کی لگتا تھا بدلے ھوئے
خلوت تھی ان کی جیسے آسیب کا اثر
موم بن کر روبرؤ ھم تھے پگھلے ھوئے
واپس تو آئے یوں بچھڑ کر صنم سے ھم
چھوڑ آیے وھیں پر خود کو تن سے نکلے ھوئے
عارف یہ احساس ھے کتنا تکلیف دہ
وہ لمہے انکے ساتھ کے پانی کے بلبلے ھوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






