ایک پگلی، ایک دیوانہ
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ بھی خود سے اسکی باتیں کرتا ہے
اور وہ خود سے اسکی باتیں کرتی ہے
وہ بھِی اپنے دیوانے پن کا دیوانہ
اور وہ اپنے پاگل پن کی پگلی ہے
دونوں تنہائی میں اشک بہاتے ہیں
محفل میں دونوں ہی مسکراتے ہیں
دونوں اک دوجے پہ جیسے مرتے ہیں
دل کی باتیں کہنے سے پر ڈرتے ہیں
دونوں کی قسمت کے ستارے جدا جدا
لیکن دونوں کا دل اک دوجے سے جڑا
وہ بھِی اپنے دیوانے پن کا دیوانہ
اور وہ اپنے پاگل پن کی پگلی ہے
وہ بھی خود سے اسکی باتیں کرتا ہے
اور وہ خود سے اسکی باتیں کرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






