ایک چہرہ میری آنکھوں میں اترتا کیوں ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiایک چہرہ میری آنکھوں میں اترتا کیوں ہے
بار بار آ کے مرے دل میں ٹھہرتا کیوں ہے
جب مرا اس کا تعلق ہی نہیں برسوں سے
پھر مرے شہر سے آخر وہ گزرتا کیوں ہے
وہ جو کہتا ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہیں
میں جو اک پل نہ ملوں اس سے تو مرتا کیوں ہے
میں نے جب دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے اس کو
آئینہ دیکھتا کیوں ہے وہ سنورتا کیوں ہے
جس میں ہمت نہیں حالات سے لڑ جانے کی
پھر دکھاوے کلۓ پیار وہ کرتا کیوں ہے
جاگتا جب کہ نہیں ساتھ مرے یہ سورج
صبح ہوتے ہی مرے ساتھ ابھرتا کیوں ہے
گر اسے خوف زمانے کا نہیں ہے باقرؔ
پھر بتاۓ کہ وہ وعدوں سے مکرتا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






