ایک ہی خواب میں خوشبو سے بنانے والے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایک ہی خواب میں خوشبو سے بنانے والے
دل کے گلدان میں پھولوں سے سجانے والے
تُو نے جب پیار کی کرنوں سے نکلنا چاہا
اپنے آنچل کے دریچے میں چھپانے والے
میں نے دن رات محبت کے جنوں میں جل کر
زندگی ! پیار سے کندن ہے سجانے والے
جلتے زخموں پہ مرے صبح کی شبنم رکھنا
اے مری رات اگر درد سنانے والے
مجھ سے سایہ مرا چھینا ہے تو اب صبر بھی دے
میرا دکھ درد ہے معلوم جگانے والے
نیند کو چھوڑ اے وشمہ تُو عبادت کر لے
اس کی رحمت سے ہے اللہ کے مانے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






