اے اجنبی میں تم سے اتنا پیار کرنے لگی ھوں
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWاے اجنبی میں تم سے اتنا پیار کرنے لگی ھوں
میرے پیار کو کبھی تم کم ھونے مت دینا
غم میں سعی مجھے خوشی میں رونے مت دینا
ہر پل میں تیرے ساتھ چلوں گی
تجھہ سے میں نے اپنے سپنے سجانے لگی ھوں
میرے سپنوں کو تم ٹوٹنے مت دینا
ہر قدم سے قدم ملانا ساتھہ نبھانا
اگر خطا ھو تو مجھے سمجھانا پر
مجھکو اکیلے چھوڑ کر مت جانا
اے اجنبی مجھے تجھ سے پیار ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






