مگر پھر بھی۔۔۔ محبت! ہو جاتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت دل جلاتی ہے
محبت آزماتی ہے
محبت خون کے آنسو
رلاتی ہے
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت! ہو جاتی ہے
محبت سے حسیں کوئی بھی
جذبہ ہو نہیں سکتا
محبت کے بنا دل کا گزارا
ہو نہیں سکتا
محبت ہے تو، ہر جذبہ
ہر اک منظر
ہر اک نغمہ
نظر کو۔۔۔
روح کو۔۔۔
دل کو۔۔۔
بہت دلکش بناتا ہے
اشک بھی مسکراتے ہیں
درد بھی گنگناتے ہیں
محبت کی خطاؤں کا
محبت کی سزاؤں کا
محبت کرنے والے
اپنے پیاروں کی جفاؤں کا
برا نہیں مناتے ہیں
محبت کرنے والے ہجر میں بھی
خط اٹھاتے ہیں
وصل کا لطف پاتے ہیں
تڑپنے ہیں
سسکتے ہیں
مچلتے ہیں
پگھلتے ہیں
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت میں محبت کو
بڑھاتے ہیں
اور اپنے ان
حسیں جذبوں کو
اشکوں سے سجاتے ہیں
محبت کی کہانی
خود محبت کی زبانی
یہ محبت جب سناتی ہے
یہی اظہار کرتی ہے
یہی اقرار کرتی ہے
محبت دل جلاتی ہے
محبت آزماتی ہے
محبت خون کے
آنسو رلاتی ہے
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت! ہو جاتی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






