مگر پھر بھی۔۔۔ محبت! ہو جاتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت دل جلاتی ہے
محبت آزماتی ہے
محبت خون کے آنسو
رلاتی ہے
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت! ہو جاتی ہے
محبت سے حسیں کوئی بھی
جذبہ ہو نہیں سکتا
محبت کے بنا دل کا گزارا
ہو نہیں سکتا
محبت ہے تو، ہر جذبہ
ہر اک منظر
ہر اک نغمہ
نظر کو۔۔۔
روح کو۔۔۔
دل کو۔۔۔
بہت دلکش بناتا ہے
اشک بھی مسکراتے ہیں
درد بھی گنگناتے ہیں
محبت کی خطاؤں کا
محبت کی سزاؤں کا
محبت کرنے والے
اپنے پیاروں کی جفاؤں کا
برا نہیں مناتے ہیں
محبت کرنے والے ہجر میں بھی
خط اٹھاتے ہیں
وصل کا لطف پاتے ہیں
تڑپنے ہیں
سسکتے ہیں
مچلتے ہیں
پگھلتے ہیں
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت میں محبت کو
بڑھاتے ہیں
اور اپنے ان
حسیں جذبوں کو
اشکوں سے سجاتے ہیں
محبت کی کہانی
خود محبت کی زبانی
یہ محبت جب سناتی ہے
یہی اظہار کرتی ہے
یہی اقرار کرتی ہے
محبت دل جلاتی ہے
محبت آزماتی ہے
محبت خون کے
آنسو رلاتی ہے
مگر پھر بھی۔۔۔
محبت! ہو جاتی ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






