اے دلِ بے خبر ابھی کیا ہے
Poet: Akhtar Muslimi By: nadeem, Azamgarhاے دلِ بے خبر ابھی کیا ہے
جانتا بھی ہی عاشقی کیا ہی
سبب جورِ بے رخی کیا ہے
کچھ کہو وجہِ برہمی کیا ہے
جانے والا چلا گیا اب تو
نگہہ شوق دیکھتی کیا ہے
یاد مونس ہے غم گسار ہے دل
شام فرقت میں بے کسی کیا ہے
جی رہا ہوں ترے بغیر مگر
اک مصیت ہے زندگی کیا ہے
جز ترے کیا طلب کروں تجھ سے
مجھ کو تیرے سوا کمی کیا ہے
پر تَوِ حسن روئے دوست ہے یہ
ماہ و انجم میں روشنی کیا ہے
دوستی میرے بخت سے ہے تجھے
مجھ سے اے نیند دشمنی کیا ہے
اپنے بس ہی کی جب نہیں اختر
ہائے ایسی بھی زندگی کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






