اے دوست! تُو نہ میرا غمکھار بن
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL , Gujranwalaاے دوست
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
کہ میرے غم بے تحاشہ ہیں
میرا تن ہے گھائل کہی زخموں سے
تُو اکیلا کس کس کی دوا کرئیگا
مجھے چھوڑ دے میرے حال پے
تُو نہ اپنی خوشی برباد کر
نہ کر ضائع وقت میرے علاج میں
نہ اشک بہا میری حالت پے
مجھے روگ لگے ہیں جو جو بھی
ابھی ایجاد نہیں ہوئی دوا اُس کی
میں مر جاؤنگا تڑپ تڑپ کے
جان نکل جائے گئی سسک سسک کے
تُو اُداس نہ بیٹھ پاس میرے
تُو نہ میرے غم میں پریشان ہو
مجھے مرنے دے مجھے مرنے دے
تُو اپنی زندگی کا خیال کر
میں نہ فائدہ مند تری جان کا
البتہ سبب ہوں ترے نقصان کا
میری بات سمجھ نہ دیر کر
تُو چلا جا مجھے چھوڑ کے
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
نہالؔ گل
تُو اپنی زندگی کا خیال کر
میں نہ فائدہ مند تری جان کا
البتہ سبب ہوں ترے نقصان کا
میری بات سمجھ نہ دیر کر
تُو چلا جا مجھے چھوڑ کے
اے دوست! تُو نہ میرا غمخوار بن
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






