اے مرے دیس
Poet: attia khan mughal By: attia khan mughal, sergodhaاے مرے دیس ترے درد کا درماں ڈھونڈوں؟
کس سے جا کر یہ کہوں رات تری بوجھل ہے
ایسے لوگوں سے کہوں جنکا کوئ جسم نہیں
وہ ترے درد کو کیا سمجھے جسے زخم نہیں
کس سے پوچھوں کہ یہاں
ہونٹ قفل پہنے ہوے
آنکھ پتھرائ ہوی جسم لہو پہنے ہدے
قہر میں جیتے ہوے اور الم مارے ہوے
زیست بھاری ہے بہت اور بدن ہارے ہوے
زندگی ڈار سے بچھڑی ہوئ اک کونج ہوئ
روتی کرلاتی ہوئ دور کہیں اڑتی ہے
میں اسے کسکو سناؤں کہ یہاں بہرے ہیں
انکے کانوں میں میں فقط گونجتی شہنائ ہے
رات رات بھاری ہے ترے سر پہ اتر آئ ہے
اے مری جان ترے درد کا درماں ڈھونڈوں؟
نہ کہیں چاند فروزاں نہ کوئ مشعل ہے
اے مری جان یہاں رات تری قاتل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






