ہارٹ اٹیک
Poet: attia khan mughal By: attia khan mughal, sergodhaنہ وہ آیا نہ اسکے بعد کبھی
دلِ بے ربط چین پائے گا
وقتِ نا مہرباں کی بات نہ کر
آج آےا تہ کل کیا آئے گا
درد نے روح سے بہم ہو کر
توڑنی چاہی ہیں طنابیں دل
روح سے رشتہ ئ بدن کب تک
آخر یک روز ٹوٹ جائے گا
دل سا آوارہ کوئی کےا ہو گا
روزو شب زندگی کے تعاقب میں
آج نکلا تو کھینچ لائے تم
کل نہ لوٹا تو کون لائے گا
زندگین کو خراج ساری عمر
دل چکاتا رہا پہ لاحاصل
میرا ساےہ مرے بدن کا رفےق
کسطرح سے ئسے چکائے گا
روشنی کا رقیب اندھھھیرا
تادمِ مرگ دم نبھائے گا
کل کا سقرج نکل بھی آیا تو
شام ڈھلتے ھی ڈوب جائے گا
آج گو لمحہ ئ موجود میں ہے
میرے سینے میں تلخیئ حالات
کہیئ جام و سبق کی بات کرو
لمحہئ غم بھی بےت جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






