اے میری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanاے مری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
کتنا بے چین ہے تیرے لیے محبوب ترا
تیرے قدموں کے لیے لایا ہوں مہکے یہ گلاب
کھول دے آنکھیں تو ٹپکے گی محبت کی شراب
گرمئی حسن سے جلتا ہے بدن آج مرا
اے مری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
کتنی معصوم نظر آتی ہے یوں سوئی ہوئی
ایسا لگتا ہے حسیں خوابوں میں ہے کھوئی ہوئی
مجھ کو مدہوش سا کرنے لگا انداز ترا
اے مری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
تیری مہکی ہوئی سانسوں سے محبت ہے مجھے
چوم لوں ریشمی زلفوں کو یہ حسرت ہے مجھے
میری شہزادی ترا پیار ہے اس دل میں بھرا
اے مری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
مسکراتی ہے تو کھل جاتی ہیں ہر سو کلیاں
جگمگاتی ہیں ترے حسن سے دل کی گلیاں
ناز و انداز پہ تیرے ہے فضا نغمہ سرا
اے مری سوئی پری جاگ ذرا دیکھ ذرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






