بادل تھا مجھ پہ ٹوٹ کے برسا نہ تھا کبھی

Poet: dr.zahid Sheikh By: dr.zahid Sheikh, Lahore Pakistan

بادل تھا مجھ پہ ٹوٹ کے برسا نہ تھا کبھی
پاس آ کے میرے پاس وہ آیا نہ تھا کبھی

اکثر وہ گھر میں آتا تھا چپکے سے شام کو
پر اس نے پیار سے مجھے دیکھا نہ تھا کبھی

اس کو تو جیسے پیار کا کچھ ہوش ہی نہ تھا
کوئی بھی لفظ پیار کا سوجھا نہ تھا کبھی

اکثر میں دیکھتا تھا اسے پیار سے مگر
بدھو سا کچھ سمجھ بھی تو پایا نہ تھا کبھی

اک روز میں نے پوچھا کرو گے کیا مجھ سے پیار
کہنے لگا کہ ایسا تو سوچا نہ تھا کبھی

میں نے کہا کمی تو نہیں مجھ میں کوئی بھی
پھر بھی کیوں مجھ کو آپ نے چاہا نہ تھا کبھی

آیا جواب پڑھنے سے فرصت نہیں ملی
اس کے علاوہ دل کو لگایا نہ تھا کبھی

اس کی معصومیت کو میں کرتا رہا تھا پیار
جس کی سمجھ میں پیار تو آیا نہ تھا کبھی

اس نے اگرچہ دی نہ کبھی پیار کی سوغات
لیکن ذرا بھی دل کو دکھایا نہ تھا کبھی

جانے کہاں ہے آج وہ اک بھولا بھالا شخص
جس نے کسی کو بھی تو ستایا نہ تھا کبھی

Rate it:
Views: 955
10 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL