بادل تھا مجھ پہ ٹوٹ کے برسا نہ تھا کبھی
Poet: dr.zahid Sheikh By: dr.zahid Sheikh, Lahore Pakistanبادل تھا مجھ پہ ٹوٹ کے برسا نہ تھا کبھی
پاس آ کے میرے پاس وہ آیا نہ تھا کبھی
اکثر وہ گھر میں آتا تھا چپکے سے شام کو
پر اس نے پیار سے مجھے دیکھا نہ تھا کبھی
اس کو تو جیسے پیار کا کچھ ہوش ہی نہ تھا
کوئی بھی لفظ پیار کا سوجھا نہ تھا کبھی
اکثر میں دیکھتا تھا اسے پیار سے مگر
بدھو سا کچھ سمجھ بھی تو پایا نہ تھا کبھی
اک روز میں نے پوچھا کرو گے کیا مجھ سے پیار
کہنے لگا کہ ایسا تو سوچا نہ تھا کبھی
میں نے کہا کمی تو نہیں مجھ میں کوئی بھی
پھر بھی کیوں مجھ کو آپ نے چاہا نہ تھا کبھی
آیا جواب پڑھنے سے فرصت نہیں ملی
اس کے علاوہ دل کو لگایا نہ تھا کبھی
اس کی معصومیت کو میں کرتا رہا تھا پیار
جس کی سمجھ میں پیار تو آیا نہ تھا کبھی
اس نے اگرچہ دی نہ کبھی پیار کی سوغات
لیکن ذرا بھی دل کو دکھایا نہ تھا کبھی
جانے کہاں ہے آج وہ اک بھولا بھالا شخص
جس نے کسی کو بھی تو ستایا نہ تھا کبھی
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






