باتوں کا جادوگر
Poet: ارسلان حُسین By: Arsalan Hussain, Dubaiوہ اِک لڑکی
جسے گفتگو پر عبور نہ تھی
جو الفاظ کے مفہوم میں اُلجھی رہتی
جو عنوان کی تلاش میں کہو جاتی
یوں اسکا دل دھڑکتا تھا
زباں لرزہ یوں رہتی تھی
ادھورے لفظ ہونٹوں سے ادا مشکل سے ہو پاتے
اکثر ایسا ہوتا تھا
اسے کہنا ہو جو مجھ سے
وہ ہمیشہ بھول جاتی تھی
بارہا گفتگو کے درمیاں خاموش ہو جاتی
اپنے سرخ ہونٹوں کو دانتوں میں دبا لیتی
میری ہم کلامی سے بہت بیزار ہو جاتی
اور اب وہی لڑکی، وہی گم سم سی لڑکی
کئی بے رنگ محفل کو اپنے رنگوں سے بھرتی ہے
نئے انداز ہیں اب اسکے
الگ رنگ روپ ہے اسکا
بہت چنچل طبیعت ہے
بہت بے باک ہے اب وہ
وقت کروٹ ہوا ہے یوں
وہ آج جب پاس آ بیٹھی
مجھے کچھ اس سے کہنا تھا
میرے الفاظ لرزہ تھے
میں سب کچھ بھول بیٹھا تھا
اور میرا دل بھی دھڑکا تھا
میں عقل و فہم و دانائی
ان سب سے گریزاں تھا
کہ آج باتوں کا جادوگر
بہت خاموش بیٹھا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






