مرا بچپن مری سوچوں کےآنگن میں مچلتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامرا بچپن مری سوچوں کےآنگن میں مچلتا ہے
مری آنکھوں سے جب آنسو مرے گالوں پہ گرتا ہے
میں دیوارِ محبت پر اگر تحریر کچھ کر دوں
مرا دل اس گھڑی بے نام آتش میں سلگتا ہے
میں جب احساس کے جنگل میں رستہ بھول جاتی ہوں
تو بھر احساس دلدل کی طرح مجھ کو نکلتا ہے
یہ دستور زماں کیسے مجھے اب روک پائے گا
مری سوچوں سے جو لاوا سا ہر لحمہ نکلتا ہے
مقدر کیا لکھے گا کاتب تقدیر اب وشمہ
وہ کر کے فیصلہ خود فیصلے کو جو بدلتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






