بات مشہور ہے زمانے
Poet: دستگیر نواز By: Dastagir Nawaaz, Hyderabad پھول جھڑتے ہیں مسکرانے میں
بات مشہور ہے زمانے میں
جو بھی کہنا ہے صاف کہہ دیجے
کیا ملے گا تمہیں چھپانے میں
جارہا ہوں عروج کی جانب
دوست مصروف ہیں گرانے میں
ہم نے دیکھا نہیں کوئی تم سا
خوب ماہر ہو دل چرانے میں
میں ہی کردار ہوں کہانی کا
ذکر میرا نہیں فسانے میں
اس کی گلیوں سے میرے کوچے تک
دن گزرتا ہے ٓانے جانے میں
کیا کریں گے نواز ہمدردی
وہ جو ماہر ہیں دل جلانے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







