Aankhon kay ''ASEER''

Poet: kiran shahzadi By: kiran shahzadi, Rawalpindi

Kabhi Uss Ki Aankhein Kuch Kehti Hain
Kabhi Kuch Kehti Hi Nahi
Kabhi Uss Ki Aankhon
Main Malaal Hota He
Kabhi Iqraar Hota He
Kabhi Sawaal Karti Hain
Kabhi Jhuk Sii Jati Hain
Kabhi Masroof Rakhti Hain
Kabhi Mujhy Apny
Hesaar Main Ghair Laiti Hain
Kabhi Khaali Khaali Si
Khamoosh Lagti Hain
Kabhi Uss Ki Aankhein
Mujhy Bechain Karti Hain
Mujh Se Har Lamha
Raabty Main Rehti Hain
Uss Ki Aankhein
Kabhi Khushi Se
Shokh Lagti Hain
Kabhi Gham Se
Nidhaal Lagti Hain
Kabhi Fikr Ki Shmein
Unn Main Jalti Hain
Kabhi Madham Si Lagti Hain
Meri Aankhon Main Doob Kr
Uss Ki Aankhein
''Nayaab'' Ho Jati Hain
''Uss'' Ki Aankhon Ki Hararat
Mujhy Aksar Bechain Rakhti He
Kabhi Mujhy Uss Ki Aankhein
Sharabi Si Lagti Hain
Kabhi Atabi Si Lagti Hain
Kabhi Ruthi Si Lagti Hain
Kabhi Jalali Si Lagti Hain
Kabhi Ndamat Se
Chur Chur Lagti Hain
Uss Ki Aankhon Ko
Parrny Ka Saliqa Mujh Ko Aata Tha
Mgr Ik Din Keh Dia Uss Ny
Tum Ab Chali Jao
Meri Inn Atabi Aankhon Ky
Aseer Bohat Hain
 

Rate it:
Views: 537
19 Aug, 2017
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL