بات نکلی ہے تو پھر کوچہءِ جاں تک پہنچے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiبات نکلی ہے تو پھر کوچہءِ جاں تک پہنچے
بے بسی اب تو میری آہ و فغاٰء تک پہنچے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
ایسا نہ ہو کہیں میرے گریباں تک پہنچے
سوزِ دل، شوقِ وصل اور یہ ہجر کی رات
بڑھتی جائے نہ رکے جانے کہاں تک پہنچے
نالہءِ ہجر ستاروں سنو، مہتاب سنو
سن لو آکاش و زمیں، سن لو جہاں تک پہنچے
عشق کامل ہے تو تنہائی میری منزل کیوں؟
آبلہ پا تھے مگر ہم بھی کہاں تک پہنچے!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






