باخبر کو خبر نہیں ہوتی
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAہر دعا بااثر نہیں ہوتی
ہر دوا کارگر نہیں ہوتی
دل کو تسخیر کرنے والوں کی
معجزوں پر نظر نہیں ہوتی
بوئے اخلاص سے جو عاری ہو
دوستی معتبر نهیں هوتی
جو اندھیروں کو گود میں لے لے
وہ سحر تو سحر نہیں ہوتی
جس جگہ راج ہو تصنع کا
سادگی پھر ادھر نہیں ہوتی
دن کی ہر اک بلا ٹلی سر سے
منزلِ شب ہی سر نہیں ہوتی
ان کو ٹھوکر ضرور لگتی ہے
جن کی نیچے نظر نہیں ہوتی
ایک عالم سے باخبر دیکھا
جس کو اپنی خبر نہیں ہوتی
اِبنِ مریم کی پھر ضرورت ہے
پھر دوا کارگر نہیں ہوتی
میری نظروں سے رہ نہیں گذری
یاد ان کی جدھر نہیں ہوتی
عشق ہوتا نہ گر زمانے میں
حسن کی یہ قدر نہیں ہوتی
یاد آئی کسی کی شدت سے
ورنہ یوں آنکھ تر نہیں ہوتی
بےخبر کو بھی تھی خبر لیکن
باخبر کو خبر نهیں هوتی
جن کے گھر میں چراغ ہو مفتی
تیرگی ان کے گھر نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






