دل کی بولی عجیب بولی ہے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAبرق نے جب بھی آنکھ کھولی ہے
آشیانوں نے خاک رولی ہے
یاد کا کیا ہے آگئی پھر سے
آنکھ کا کیا ہے پھر سے رولی ہے
دل کی باتوں کو دل سمجھتا ہے
دل کی بولی عجیب بولی ہے
پردہ اٹھتے ہی میری نظروں سے
کائنات یقین ڈولی ہے
تم مصلی بچھا لو چاہت کا
ہم نےدہلیز دل کی دھولی ہے
چشم یاراں ہے مصر کا بازاز
لگ رہی میرے دل کی بولی ہے
اک طرف امن کے ہیں متوالے
اک طرف مفسدوں کی ٹولی ہے
دل کی کھیتی ہے اشک سے سیراب
ہم نے یادوں کی فصل بولی ہے
مسکرائے نہ چاند کیوں مفتیؔ
آئی جو چاندنی کی ڈولی ہے
More Love / Romantic Poetry






