بتاؤ مجھے
Poet: Snober George By: Snober george, Faisalabadکوئی اس دنیا میں اپنانے والا ہے تو بتاؤ مجھے
کوئی اس دل کو لبھانے والا ہے تو بتاؤ مجھے
میں تو سنسار سے بالکل الگ لڑکی ہوں
کوئی دل سے چاہنے والا ہے تو بتاؤ مجھے
ہر کسی کو دیکھا ہر کسی کو جانا ہے میں نے
کوئی سچا پیار لٹانے والا ہے تو بتاؤ مجھے
اداکاروں کی بستی ہے دکھاوے کی محبت
کوئی دل کو دھڑکانے والا ہے تو بتاؤ مجھے
میں اکثر گم صم رہتی ہوں خوابوں کا شہزادہ سوچ کر
کوئی محبتوں کو جگانے والا ہے تو بتاؤ مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







