برسات کی رت اور بارش سے تھا اک جگ بھیگا
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaتم ھو کہ اپنے گھر سے میر ے دل میں سمونے نکلے
اپنے ھاتھوں سے مالا مر ے سانسوں کی پرونے نکلے
برسات کی رت اور بارش سے تھا اک جگ بھیگا
ھم اسکے تر دامن سے اپنی آنکھوں کو بھیگونے نکلے
میکد ہ دور تھا اسکے کوچے میں ذرا ٹہر کر دیکھا
وہ سمجھے کہ میر ے در پر شب بھر کو سونے نکلے
انکی آنکھوں میں جو دیکھا مر ے جزبات نے آگے بڑھ کر
ٹوٹے ھوئے بکھرئے ھوئے ہر سو مٹی کے کھلونے نکلے
تجھ کو پانے کی طلب نہ باقی رھا ارمانوں کا شعور
ا ے صنم رھو بے فکر ھم خود کو خود سے کھونے نکلے
غم عاشقی کا ھوا اعلان جب دیر سمے اس روز
کتنے ھی سیانے تھے مر ے ساتھ گھر سے رونے نکلے
محبت لا حاصل ھے نہ سوچا تھا نہ سوچیں گے عارف
فرش کے باسی ھیں غافل ھیں عرش کو چھونے نکلے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






