بس تم خود کو میرا اور مجھے اپنا ھونے دو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاپنی آغوش میں چند
پل تو رہنے دو
آج سنو! مجھے اور
خود کو چپ رہنے دو
مجھے تمہیں بہت کچھ کہینا ھے
آج مجھے سب کچھ کہنے دو
ہر اس پل کو یاد کرانے دو
ہر اس احساس کو جگانے دو
تمہاری ہر تلخی کو بتانے دو
میری آنکھوں میں پھر
سے وہی اشک تو آنے دو
میری سانسوں کو ویسے
ہی رک جانے دو
سوچوں تم اپنی ہر خطا کو
یاد کرو! میری ہر وفا کو
تمہاری ہر خطا کا
مجھے حساب کرنے دو
ہر خطا کے بدلے میں
آج اپنا پیار ظاہر کرنے دو
اپنے ہاتھوں سے میرے
آنسوں کو صا ف کرنے دو
اپنی بانہوں میں بکھر جانے دو
مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ھیں
بس تم خود کو میرا اور مجھے اپنا ھونے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






