بچپن کی شرارتیں
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratوہ دن بھی کتنے اچھے تھے
جب ہم شرارتوں کے پکے تھے
کبھی چڑھتے دیواروں کے اوپر
کبھی نیچے چھپتے چارپائی کے
سب دوست یار مل کر
کبھی روتے اک دوجے سے لڑ کے
کبھی مسکراتے اٹھکلیاں کرتے
کبھی کسی کے ساتھی بن جاتے
کبھی من ہی من دوسروں سے جلتے
وہ دیکھو کیسا لگتا ہے
اک دوجے کا تھےنام رکھتے
جب نام کوئی چڑاتا
اس کو مارنے پیچھے دوڑتے
اس دوڑ میں جب تھک جاتے
اس دوجے کے گھر سے بوتل پی لیتے
گھر میں امی سے چھپ کر کچن میں
دودھ ملائی چپکے سے کھا لیتے
جب ڈانٹ کی باری آجاتی
اک دوجے کا نا م لے کر بچ جاتے
سب بہن بھائی
دادی کی نظروں سے بچ کر
مٹھی میں مٹی چھپا کر
اک دوجے پہ پھنکتے پھرتے
ابا کا جوتا اٹھنے سے پہلے
کہیں دور بھاگ جایا کرتے
وہ دن بھی کتنے اچھے تھے�
جب ہم چھو ٹے سے بچے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






