پھر رات رہی تاروں سے تیری باتیں کرتی
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratپھر رات رہی تاروں سے تیری باتیں کرتی
پھر رات گزری تیرے نام کا چراغاں کیے ہوئے
اک ضدی یقین تو آئے گا لوٹ کے
اچھے بھلے دل کو ہوں نادان کیے ہوئے
اب بھی تجھے شعروں میں تصویر کرتی ہوں
اب بھی یاد ہیں تیرے عہدوپیماں کیے ہوئے
نیند سے تو یہ رتجگے اچھے ساتھی
ورنہ تیرے خواب تھے پریشاں کیے ہوئے
نڈھال ہوں تیرے انتظار میں کہ اپنی بھی خبر نہیں
دن رات ہیں گزرتے ایسے نقصاں کیے ہوئے
بہت افسردہ ہیں میرے گھر کے درودیوار
رونق آشیاں کو ہوں ویراں کیے ہوئے
تو نہیں مگر پھر بھی ہے ہر لحظہ مجھ میں
میں تجھ کو ہوں خود میں میری جاں کیے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






