بچھڑ چکا ہے وہ مجھ سے سدا رہا ہے کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابچھڑ چکا ہے وہ مجھ سے سدا رہا ہے کوئی
دریچہ کھول کہ دیکھو صدارہا ہے کوئی
میں کھو گئی ہوں یہ کیسے حسیں خیالوں میں
بڑی خموشی سے اپنا بنا رہا ہے کوئی
یوں اس کی سانسوں کی خوشبو رچی ہے سانسوں میں
اسی کو کرنے کا دل نے کہا رہا ہے کوئی
تصورات کی دنیا حسین ہونے لگی
وہ اپنے ساتھ کئی پہ چلا رہا ہے کوئی
بہت دنوں سے مری نیند بھی ہے روٹھی ہوئی
اداسیوں بھرا موسم مٹا رہا ہے کوئی
یقین کرنے کو دل چاہتا تو ہے میرا
خذاں تھی زیست میں لیکن وفا رہا ہے کوئی
وہ کام زیست میں کرنا پڑا مجھے اکثر
مری زمیں پہ وہ میرا خدا رہا ہے کوئی
خبر نہ ہو گی اسے میرے پیار کی وشمہ
میں کہہ سکوں گی نہ اس کوبنا رہا ہے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






