بچھڑ کے مجھ سے نہیں ہنستا ہوگا
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratبچھڑ کے مجھ سے نہیں ہنستا ہوگا
پھر کسی سے نہیں ملتا ہو گا
جب بھی اکیلے پن کا عذاب اس کو ستاتا ہو گا
سوائے میرے کچھ نہیں ڈھونڈتا ہو گا
گھر کی چار دیواری میں لے رہا ہو گا سسکیاں
کہ یاروں سے بھی نہیں ملتا ہو گا
غموں کے شباب میں فقط
میرے بارے اور تو کچھ نہیں سوچتا ہو گا
میرے طفیل سے ہی اس کے دامن میں خوشیاں ہوں گی�
اس کی آنکھوں سے میرا چہرہ نہیں ٹلتا ہو گا
خوش گمان ہوں میں شاید کچھ زیادہ ہی
مجھ سے بچھڑ کر وہ تو نہیں رویا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






