بھروسہ ٹوٹ جائے تو
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiتم ہی کہو کیسے سنبھلیں پھر
جب تھامنے والا ہی چھوڑے تو
کھلنے کی امید کیسے کرئے
جب پھول کو مالی توڑے تو
عجب کھیل ہے رشتوں کا
عجب یہ دنیا داری ہے
کبھی کوئی دوا کا کام کرئے
کوئی رشتہ خود بیماری ہے
ہر کوئی مجرم سا لگتا ہے
دل کی عدالت کے کٹہرےمیں
ذات اپنی بھی لگتی ہے
مجھے تو لاشعور کے پہرے ہیں
کوئی خواہ کیسا ہی سچا ہو
کبھی پھر سچا نہیں لگتا
جب بروسہ ٹو ٹ جائے تو
کو ئی اچھا نہیں لگتا
کوئی جیل سے تو نکل سکتا ہے
اپنی ذات سے کیسے نکلے گا
برف ہو تو پگھل بھی جائے کنولؔ
پہاڑ کوئی ہو تو کیسے پگھلے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






