بہانے ڈھونڈے
Poet: jamila iqbal By: jamila iqbal, islamabadراحت کا ایک لمحہ نہیں پایا ہم نے
اک وہ تھا کہ فرصت کے بہانے ڈھونڈے
کٹی عمر مفلسی میں اپنی
اک وہ تھا کہ دنیا کہ خزانے ڈھونڈے
ہمیں تو تھی بس اک دوست کی تلاش
وہ تھا کہ روز نئے پروانے ڈھونڈے
تھے ہم بھی کتنے سادہ دل
خوشیوں میں بھی دکھ درد کے افسانے ڈھونڈے
ہمیں تو ملتا تھا بس عبادت میں سرور
وہ تھا کہ مصیبت میں بھی مے خانے ڈھونڈے
محبت میں اٹھائے تھے درد کیا کیا
وہ تھا کہ الفت کے پیمانے ڈھونڈے
کرا تھا بے رخی ہر کسی سے وہ
نجانے کیوں ہم سے ملنے کے بہانے ڈھونڈے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






