بیٹھے بیٹھے یہ کیا ہوا مجھ کو
Poet: Anwar Kazimi By: anwar kazimi, mississauga, Canadaبیٹھے بیٹھے یہ کیا ہو ا مجھکو
کو ن سا روگ لگ گیا مجھکو
کس سے پو چھوں کہ عمر بھر کو ملی
کو ن سے جرم کی سز ا ٴٴ مجھکو
تیر ے وعدوں پہ گر یقیں ہو تا
ہو چکا ہو تا کیا سے کیا مجھکو
چل پڑا منہ اُٹھائے اُسکے ساتھ
جو بھی رستے میں مل گیا مجھکو
مجھ سے شکوہ ہے کیوں زمانے کو
اُس سے پو چھو کہ کیا دیا مجھکو
اتنی حیرا نگی سے منہ پھاڑے
دیکھتا کیا ہے آ ئینہ مجھکو
کیا عجب عشق تھا کہ ا نو ر جی
یا د آ یا بہت خدا مجھکو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






