ب وہ خاکساروں سے بے نقاب مِلتا ہے
Poet: ابنِ مُنیب By: ابنِ مُنیب, Pakistanکب وہ خاکساروں سے بے نقاب ملتا ہے
طُور پر بھی دیکھا ہے، با حجاب ملتا ہے
گو حساب کرنے کی خُو اُنہیں نہیں ہوتی
شکر کرنے والوں کو بے حساب ملتا ہے
جانتے نہ تھے شاید تھک کے ہارنے والے
رات کی مسافت پر آفتاب ملتا ہے
خوف لے اُڑا دیکھو حسن و خوبیِ گلشن
زرد رنگ ہے اُس کا، جو گلاب ملتا ہے
عشق جب ستاتا ہے لفظ شعربنتے ہیں
اِس لیے ہر اک عاشق باکتاب ملتا ہے
لاکھ نعمتوں پر ہے فوقیت مُنیبؔ اُس کو
کاروبارِ الفت میں جو عذاب ملتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






