دیکھا تمہاری آنکھ میں تو جان سے گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادیکھا تمہاری آنکھ میں تو جان سے گئے
حضرت ! تمہارے پیار میں ایمان سے گئے
یہ انتہائے عشق ہے محور حیات کا
کوچے میں تیرے جب بھی گئے شان سے گئے
پہلے تو مل کے مارنے کی حد پہ آگئے
قربت بڑھی تو درد بھی پہچان سے گئے
تنقید کی تو قلب و نظر کھودیئے یہاں
نازک لبوں کی سحر کی مسکان سے گئے
بہتے دنوں کی نظم بھی پڑھتے رہے مگر
منکر تھے سارے عشق کے فرمان سے گئے
جب دوستوں نے پیار کے اوراق پڑھ لئے
پھر بار بار مل کے وشمہ خان سے گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






