تجھے میں پیار کروں گا تجھے ستاؤں گا (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتجھے میں پیار کروں گا تجھے ستاؤں گا
وفا کے گیت تجھے جان من سناؤں گا
رہے گی مجھ سے خفا کب تلک بتا تو ذرا
ہنسی علاج ہے غم کا تو مسکرا تو ذرا
میں ہاتھ جوڑ کے آخر تجھے مناؤں گا
وفا کے گیت تجھے جان من سناؤں گا
تو خوبرو ہے تو نخرہ بھی آسماں پہ ترا
چلے تو ایسے کہ ہے راج اس جہاں پہ ترا
ترا بنا ہوں میں اپنا تجھے بناؤں گا
وفا کے گیت تجھے جان من سناؤں گا
تری گلی کے میں پھیرے لگا نہیں سکتا
گلی کے لوگوں سے میں مار کھا نہیں سکتا
ہاں تجھ سے ملنے میں کالج تو روز آؤں گا
وفا کے گیت تجھے جان من سناؤں گا
تجھے میں پیار کروں گا تجھے ستاؤں گا
وفا کے گیت تجھے جان من سناؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






