تجھ کو دیکھیں بھی تو خاموش گزر جاتے ہیں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanتجھ کو دیکھیں بھی تو خاموش گزر جاتے ہیں
سچ تو یہ ہے تری رسوائ سے ڈر جاتے ہیں
تو نہ آئے تو فضاؤں کو گلہ رہتا ہے
تو جو آ جائے تو موسم بھی نکھر جاتے ہیں
تجھ کو چھو لیں جو ہواؤں کے مسافر جھونکے
تیری خوشبو سے مہکتے ہیں جدھر جاتے ہیں
بکھرے بکھرے ہوئے رہتے ہیں خیابان بہار
تجھ سے ملتے ہیں تو سب پھول سنور جاتے ہیں
جب کسی جھیل کی گہرائ کو دیکھیں زاہد
اس کی آنکھوں کے تصور میں اتر جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






