ترکِ تعلق کا تیرے لب پہ جو سوال آنے والا ہے
Poet: اُسامہ غفور ضیاؔء By: اُسامہ غفور ضیاؔء, Lahoreترکِ تعلق کا تیرے لب پہ جو سوال آنے والا ہے
گویا کہ اب محبتوں پہ زوال آنے والا ہے
ہمیں چھوڑ کر اُس نے کتابوں سے محبت کر لی
یعنی کہ اب کتابوں پہ وبال آنے والا ہے
اُس کی زُلفوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر یوں لگا
جیسے گھٹا چھا گئی کوئی بھونچال آنے والا ہے
میں ابھی اُس کی آنکھوں کو دیکھ کے آیا ہوں
اُن مغرور آنکھوں میں اب ملال آنے والا ہے
سُنا ہےضیاؔء اب وہ اکثر سج سنور کے بیٹھا کرتی ہے
جب معلوم ہو کہ مجھے اُس کا خیال آنے والا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






