بچھڑ کر بھی تجھ سے تیرا دھیان رہتا ہے
Poet: اُسامہ غفور ضیاؔء By: اُسامہ غفور ضیاؔء, Lahoreبچھڑ کر بھی تجھ سے تیرا دھیان رہتا ہے
دیکھ تیرے لوٹ آنے کا کتنا امکان رہتا ہے
تم جتنا بھی بُھلاؤ دل سے محبت کو
اس کمبخت کا پھر بھی نشان رہتا ہے
پھر سے بانٹ لیا تم نے محبت کے خسارے کو
ابھی تو جاناں ہمارا پچھلا نقصان رہتا ہے
ہجر زادوں کا فلسفہ تمہیں کیا معلوم
تخیل کے دریچوں میں اک نیا جہان رہتا ہے
ٹھکرا کر چلا تھا وہ میری محبت کو ضیاؔء
سُنا ہے اب اُس کو ہر دم میرا گمان رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






