تری بے رخی سے کافی آشنا ہوں میں
Poet: Aqib Mujtaba By: Aqib Mujtaba, Jammu چاہے تیرے شہر سے نا اشنآ ہوں میں
تری بے رخی سے کافی اشنآ ہوں میں
یہ میں نہیں کہتا اہل جہاں کہتے ہیں
شرافت کی دنیا میں اک مثال ہوں میں
بزمِ یاراں میں بھی اجنبی بن کر رہا ہوں
ایسے دور سے میری جان گزرا ہوں میں
ترا آنا چلے جانے کے بعد قابلِ تعریف تھامگر
تیری اس سازش سے ناواقف کہاں ہوں میں
پھر سے جانے کے مشورے آزاد سے کرتے ہو تم
میں بھی اہل دل ہوں مری جان پتھر نہیں ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






