تری زلفوں کو چوموں اور سینے سے لگاؤں میں آ
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتری زلفوں کو چوموں اور سینے سے لگاؤں آ
میں خوابیدہ امنگیں تیری الفت کی جگاؤں آ
ترے رنگین آنچل کو ہر اک پل ڈھونڈتا ہوں میں
مرے خوابوں میں آتی ہے تجھی کو سوچتا ہوں میں
مری بانہوں میں سو جا پیار سے تجھ کو سلاؤں میں آ
تری زلفوں کو چوموں اور سینے سے لگاؤں میں آ
گلابوں سے بدن کی خوشبوئیں مجھ پہ لٹا دے آج
جو پردے ہیں محبت میں وہ سب پردے گرا دے آج
سلگتی خواہشوں میں کب تلک خود کو جلاؤں آ
تری زلفوں کو چوموں اور سینے سے لگاؤں آ
مری غزلیں مرے یہ گیت ہیں تیرے لیے جاناں
مری آواز اور سنگیت ہیں تیرے لیے جاناں
محبت کے سروں میں اک حسیں نغمہ سناؤں آ
تری زلفوں کو چوموں اور سینے سے لگا ؤں آ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






