تری سُہاؤنی خوشبو
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, Chinaرُوح کے ویراں زمانوں سے کہیں
رات چُپکے چُپکے سفر کرتی
تری سُہاؤنی خوشبو چلی آتی ہے
دلِ وحشی کا تلاطم ٹھہر جاتا ہے
نیند درخشاں ستارے کی طرح
آنکھ سے دُور آسمانوں میں اٹک جاتی ہے
اور پھر پھیلتا جاتا ہے لفظوں کا فسوں
خوابوں کی دستک کا انتظار
آوارہ ہواؤں کی صدائیں
گزرے لمحوں کی یادیں
اور پھر ساری صدائیں سبھی یادیں
تری سُہاؤنی خوشبو میں ڈھل جاتی ہیں
چُپکے چُپکے سفر کرتی
میں جہاں کہیں بھی ہوں
شہر در شہر سفر کرتی
تری سُہاؤنی خوشبو مجھ سے ملنے چلی آتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






