ترے جہاں میں اگر تجھ سے دل لگایا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاترے جہاں میں اگر تجھ سے دل لگایا ہے
مری زمیں پہ ترا آسماں کا سایہ ہے
یہ بھی تو ممکن ہے آ سماں ہی رشک کرے
تمیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے
وہ کون ہے جو یہاں روشنی کی بات کرے
ازل سے ہم نے وفا کا دیا جلایا ہے
یہ تم نے سوچا نہ تھا رات کیسے گزرے گی
اندھیری شب میں یہاں کیسے دل جلایا ہے
ہمارا چہرہ بھی ہے گرد گرد تم دیکھو
غموں کی دھول نے جو اس طرح رلایا ہے
یہاں تو وشمہ اپنے جہاں کی بات کرو
یہاں تو دل پرہی وحشتوں کا سایہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






