تصور میں تمھاری دلنشیں تصویر ہوتی ہے (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanگلابوں کی مہک دیتی کوئی تحریر ہوتی ہے
تصور میں تمھاری دلنشیں تصویر ہوتی ہے
مری تنہائیوں میں تم ہمیشہ مسکراتے ہو
محبت بھر کے آنکھوں میں مرے نزدیک آتے ہو
خیالوں کو جکڑ لے ایسی اک زنجیر ہوتی ہے
تصور میں تمھاری دلنشیں تصویر ہوتی ہے
جدا ہوں تم سے لیکن اس جدائی میں بھی لزت ہے
مجھے احساس تو ہوتا ہے کتنی تم سے الفت ہے
ہو دوری تو محبت میں بڑی تاثیر ہوتی ہے
تصور میں تمھاری دلنشیں تصویر ہوتی ہے
محبت زندگی ہے زندگی کی شادمانی ہے
محبت سے جڑی تو دو جہاں کی ہر کہانی ہے
محبت سے دلوں کی جان من تسخیر ہوتی ہے
تصور میں تمھاری دلنشیں تحریر ہوتی ہے
گلابوں کی مہک دیتی کوئی تحریر ہوتی ہے
تصور میں تمھاری دلنشیں تحریر ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






