یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے ( حصہ دوم )

Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississauga

یادوں سے بھری شام کو حسیں بناتا ھے
محبوب کی کھوئی قربت کی یاد دلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے

وہ لبوں کی نرم لرزش کو
حیا میں ڈوبی بند ش کو
آمادہ کراتی لغزش کو

اسکی رسیلی باتوں میں گویا چھپاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے

سرمائی آنکھوں میں انتظار لے کر
مرمریں بانہوں کا ھار لے کر
معطر گیسؤوں کا وار لے کر

وہ دریچے کا منظر کبھی یاد کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے

کھنکتی چوڑیوں کی جھنکار میں کیا تھا
بدلتی ھوئی تپش رخسار میں کیا تھا
وہ اقرار میں چھپی انکار میں کیا تھا

میری نگاہ یاس کو بہت پر نم بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے

وہ گزرا وقت پھر سے آ جاتا
اس بہت اپنے کو میں اپنا جاتا
شاید خود کو کہیں میں پا جاتا

یہ خود گزرتا ھے مجھے بھی گزار جاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
 

Rate it:
Views: 473
04 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL