تصور میں کسی سے پیار کرتے آ رہے ہیں ہم (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanغزل اس کے لیے کہتے ہیں نغمے گا رہے ہیں ہم
تصور میں کسی سے پیار کرتے آ رہے ہیں ہم
یہ بھیگا بھیگا موسم اور یہ ٹھنڈی ہوا توبہ
جدھر دیکھو ادھر ہے آج الفت کی فضا توبہ
نشیلا سا سماں ایسے میں بہکے جا رہے ہیں ہم
تصور میں کسی سے پیار کرتے آ رہے ہیں
مہکتے ریشمی جھونکے بدن سے آ کے ٹکرائے
تمنا نے کہا اے کاش اس کی زلف لہرائے
یوں لگتا ہے کہ جیسے لمس اس کا پا رہے ہیں ہم
تصور میں کسی سے پیار کرتے آ رہے ہیں ہم
غزل اس کے لیے کہتے ہیں نغمے گا رہے ہیں ہم
تصور میں کسی سے پیار کرتے آ رہے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






