یہ بھیگی رات بلاتی ہے میری جاں آ جا (گیت ، حصہ اول)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھیگی رات بلاتی ہے میری جاں آ جا
سلگ رہا ہوں نہ لے میرا امتحاں ا جا
بکھیر دے میرے شانے پہ ریشمی زلفیں
اتار دے میری سانسوں میں عنبریں سانسیں
ہوا ہے سرد محبت کا ہے سماں آ جا
سلگ رہا ہوں نہ لے میرا امتحاں آ جا
وہ تیرا پیار جتانا بھلا نہیں سکتا
تڑپ کے سینے لگانا بھلا نہیں سکتا
کہاں میں ڈھونڈوں تجھے ،آج ہے کہاں ہے آ جا
سلگ رہا ہوں نہ لے میرا امتحاں آ جا
میں تھام لوں تیرے ہاتھوں کو پیار سے جاناں
آ چوم لوں تیری پلکوں کو پیار سے جاناں
تو آج چھوڑ کے میرے لیے جہاں آ جا
سلگ رہا ہوں نہ لے میرا امتحاں آ جا
یہ بھیگی رات بلاتی ہے میری جاں آ جا
سلگ رہا ہوں نہ لے میرا امتحاں آ جا
(اس گیت کا دوسرا حصہ بھی جلد پیش کر دیا جائے گا
تب تک کے لیے محترم قارئین اور دوست خاطر جمع رکھیں
شکریہ)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






