تصور میں کسی سے پیار کرنا بھول جاتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہم اکثر یاد میں تیری زمانہ بھول جاتے ہیں
شعورِ بندگی بن کر سنانا بھول جاتے ہیں
تصور میں کسی سے پیار کرنا بھول جاتے ہیں
کبھی بادل برستے ہیں بلانا بھول جاتے ہیں
خوشی سے جھومتی ہوں جب اسے محسوس کرتی ہوں
مری آنکھوں سے چہرے سے دکھانا بھول جاتے ہیں
جو دل میں بات ہے ہونٹوں پہ لائیں کس طرح آخر
تمھارے بن لبوں کو ہم ہنسانا بھول جاتے ہیں
تمھاری یاد آئے تو بھلائیں کس طرح آخر
محبت کیا ہے کیسی ہے نبھانا بھول جاتے ہیں
مجھے عادت سلگنے کی پڑی ہے ایک مدت سے
ابھی جی بھر کے اس کو ہی جلانا بھول جاتے ہیں
مجھے اپنی محبت کی فقیری میں ہی رہنا ہے
ابھی اس کی خدائی کا زمانہ بھول جاتے ہیں
مجھے دیوانگی کا مل گیا تمغہ حسیں کیونکہ
مجھے پھر لوٹ کر واپس ہی جانا بھول جاتے ہیں
ابھی مجھ کو مری اس کم نصیبی کا نہیں شکوہ
مری قسمت کا لکھا مجھ کو آنا بھول جاتے ہیں
تری وشمہ کے باغوں میں محبت کے گلابوں میں
تمہارے پیار کے ساغر پلانا بھول جاتے ہیں
مجھے دریا کی موجو ں کے حوالے کردیا ہے وشمہ
یہاں دلدل میں اب تنہا بتانا بھول جاتے ہیں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






