تعداد بڑھتی ہے

Poet: Rasheed Hasrat By: رشید حسرت, Quetta

نظر رکھنے سے تیرے میری استعداد بڑھتی ہے
گھٹا کرتی ہے ہر ہر چیز تیری یاد بڑھتی ہے

مرے لب پر دہائی ہے تو کارن بھی کوئی ہو گا
تمہارا جور بڑھتا ہے، مری فریاد بڑھتی ہے

وہاں خود انحصاری ہے کہ جو ایمان سے خالی
یہاں سیلاب مانگیں ہم کہ یوں امداد بڑھتی ہے

اگر بیٹوں کو کوئی پیڑ سے تعبیر کرتا ہے
نہیں ملتا ہے پھل ان سے فقط تعداد بڑھتی ہے

کوئی ناداں کو سمجھائے طریقِ حق ہی اپنائے
فرنگی طرز سے بدنامیِ اجداد بڑھتی ہے

بڑے بھرپور شعروں کا رہا بھی انتخاب اپنا
سلیقہ رکھ نہیں پائے کہ کیسے داد بڑھتی ہے

نوازا ہے خدا نے اس کو حسرتؔ سرو قامت سے
اسی قد کے سبب تو عزتِ شمشاد بڑھتی ہے

Rate it:
Views: 65
11 Apr, 2026
More Sad Poetry