تقدیر بدلتی ہے نہ تدبیر بدلتی ہے مرد مجاھد کے مقدر کو شمشیر بدلتی ہے
Poet: syed hammad raza naqvi By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadمیدان مے بپھری لاشوں کے بدن پے آنسوں مے وضو دیکھے
ہم نے توحید کے جلتے ہوے چراغوں مے لہو دیکھے
تیری عظمت پہ کرو جان قربان اے عرب معظم
تیرے دامن مطہر مے لیا کیسے شیروں نے جنم
کچھ سوچ کے فکرات پہ یہ نظر اٹی ہے
اے عرب تیری شجاع کی جہاں مے یہ خیرات بٹی ہے
توحیدتوحید کے آنگھن نے اگر مانگا ہے اک سر تو
یہاں لاکھوں محبان گردنیں دامن سے کٹی ہے
میرے فکرات تجس کو مولا عمدہ بنا دے
اس بحر حزب کو اب تابندہ ہوا دے
وہ قول کے سچے تھے کہ اقرار کے پکے
ہر عیب سے بے رہے اس نسل کے بچے
افق کے آسمان پہ چمکا اور بحر عرب ہے
نبوت سے ہے سرفراز یتیم عبداللہ کا سفر ہے
بنی اسرائیل کے آنگھن مے اتنی تو نہ شفقت تھی
یہ آل محمد ہے جو ہر انداز سے بہتر ہے
جہاد کا جنم شکم مادری حق دودھ اگر ملتا تو یوں اسرار نہ کرتے
میدان مے ہوتی اگر موت تو جنگجو بستر مرگ پہ یوں لاچار نہ مرتے
کم سن ہے مجاہد ہے کہ وردھان الہی
جس طرف پڑی ٹاپیں اسلام کی دھوم مچائی
اس مرد مجاہد نے صبح کے افق کے وہ نام جڑا ہے
ہر آنے والا سورج لینے کو اجازت کھڑا ہے
جہاد کی صف اول مے آتے جو مرد صالح
عبادت بھی لیتی ان کے خیالات کا مزہ
قضا بھی کرتی ایسی حیات کا حیا
جو تلاش کرے صبح کی روشن فضا
جو بھی میدان مے جھپٹا وہ زمیں دوز ہوا
تلوار محمد مے یزداللہ کا زور ہوا
یہ آمد شیر تھی کہ دہر جیسے ظالم نہ ٹکے
کئی سرمے میدان سے بھاگے ماؤں کی گودی مے چھوپے
حق سے باتل کے خیمے اکھاڑ دیتے تھے
یہ وہ مرد مجاھد تھے جو قضا کی حالت بگاڑ دیتے تھے
وہ جب جانب کفار بڑھا کرتے تھے
دشمن کی صفوں کو الٹ دیا کرتے تھے
کیا شیر سی چستی تھی کہ شہباز سی تیزی
وہ بجلی کی طرح افق پہ چمکا کرتے تھے
میدان مے عمر کٹانی ان کا انداز بیاں ہوتا تھا
ان کی فوج کا ہر ایک سپاہی سالار سپاہ ہوتا تھا
قسمت ممنون منت تقدیر کو تدبیر دیا کرتے تھے
حکم الہی سے جہالت کے اندھیروں کو چیر دیا کرتے تھے
تقدیر بدلتی ہے نہ تدبیر بدلتی ہے
مرد مجاھد کے مقدر کو شمشیر بدلتی ہے
جو زمین مے اسلام کی راہ سے فساد کو چنتے ہیں
در اصل وہی لوگ جہاد کو چنتے ہیں
شکشت خوردہ با خدا کبھی نگاہ نہ اٹھتی
ہوتی احسان مندی نفس مے باد صبا حیا کا دم نہ گھٹی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






