تماشہ
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiتماشہ دیکھنے والوں تماشہ دیکھتے رہنا
تمہیں ہوگا ہمیشہ ہی خسارہ دیکھتے رہنا
جوانی بھی نہیں رہتی اسے بھی ڈھل ہی جانا ہے
بڑھاپے کا بھی تم اپنے اشارہ دیکھتے رہنا
ابھی بھی وقت ہے باقی ذرا تم سوچ لو پھر سے
سفینہ پھر بھی ڈوبے گا کنارہ دیکھتے رہنا
گیا یہ وقت تو باقی بچے گا پھر نہیں کچھ بھی
تباہی کا تم اپنی خود نظارہ دیکھتے رہنا
نہ جانے کون سے لمحے میں تم سب سے بچھڑ جاؤں
بڑی مشکل میں ہوں مجھ کو خدارا دیکھتے رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






