تمام شہر کو بس یہ ہی تھا گلہ مجھ سے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiتمام شہر کو بس یہ ہی تھا گلہ مجھ سے
کہ ہو نہ پایا کسی کا کبھی بھلا مجھ سے
منافقت کی عجب بُو سی اس سے آتی تھی
تمہارے شہر کا جو شخص بھی ملا مجھ سے
بڑے دنوں سے جو میرا دیا بجھا ہی نہیں
یہ سوچتا ہوں کہ روٹھی نہ ہو ہوا مجھ سے
ہر ایک دوست نے ملتے ہی مجھ کو زخم دیا
گلہ مگر نہ کسی کا بھی ہو سکا مجھ سے
وفائیں کر کے بھی جو سر ہے میرا نیزے پر
محبتوں کا نیا دؤر ہے چلا مجھ سے
گزر میں جاں سے نہ جاتا تو اور کیا کرتا
کہ میرا یار بھی جب دور چل دیا مجھ سے
تمام عمر ہی میری کٹی عذابوں میں
ہوئی نہ دور کبھی ہجر کی سزا مجھ سے
جو مجھ کو دیکھ کے ٹہنی کو چھوڑ جاتے ہیں
تمہارے بعد پرندے بھی ہیں خفا مجھ سے
تمام لوگ ہی تم کو نہ بےوفا کہہ دیں
تو سب کے سامنے باقر نہ منہہ کھلا مجھ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






