زمانے والوں نے کیا کیا نہیں کہا مجھ سے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

زمانے والوں نے کیا کیا نہیں کہا مجھ سے
مگر چھڑا نہ سکا کوئی در ترا مجھ سے

یہ میری ضد تھی کہ ہر وقت پیار کرنا ہے
کچھ اس طرح سے ہوا وہ کبھی جدا مجھ سے

کہ رات دن تُو بھلا کیوں اداس رہتا ہے
کسی نے آج تک ایسے نہیں کہا مجھ سے

میں اپنی مستی میں گم ہوں کسی کی سنتا نہیں
ہر ایک شخص کو بس یہ گلہ رہا مجھ سے

مزاجِ یار نہ برہم کبھی نظر آۓ
تمام شہر ہی بیشک رہے خفا مجھ سے

خدا کو روز بھُلا بھی چکا منا بھی چکا
بس ایک بھول نہ پایا وہ آشنا مجھ سے

تمہارے بعد کئ ہم سفر ملے لیکن
کسی نے درد نہ میرا کبھی سنا مجھ سے

کچھ اس لئے بھی چلا تھا میں جاں گنوانے کو
نہ دیکھا کوئی گیا درد میں گھرا مجھ سے

میں اپنے غم سے جو باقر نہ ہو سکا فارغ
تو کیسے ہوتا کسی شخص کا بھلا مجھ سے
 

Rate it:
Views: 485
13 May, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL