تمنا زندگی کی مجھے بار بار ہوتی
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIتمنا زندگی کی مجھے بار بار ہوتی
کاش میری ہر شب، شب انتظار ہوتی
میں تیری یاد میں اگر شمع بن کر نہ جلتا
میری بے قراری شاید میرا قرار ہوتی
کاش قتل کر کے مجھ کو تیری آنکھ نم ہوتی
آج ساری دنیا میری سوگوار ہوتی
تم مسکرا کے مجھ سے نہ وعدہ کرتے جاناں
شب انتظار اتنی نہ بے قرار ہوتی
میرے داغ دل مجھ کو اتنا تو بتا دے
آپ کے ہوتے بھی طبیعت کیوں نہیں سازگار ہوتی
تمہیں روٹھ جانے کا کبھی خیال تک نہ آتا
میرے دل کی یہ حالت نہ بار بار ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






